Skip to main content

هجرة الطيور شيء ساحر. لا يوجد في الكون نوع آخر من الحيوانات يتحرك مثل الطيور . الهجرة السنوية العالمية لبلايين الطيور من أكثر الظواهر روعة في الطبيعة. قدرة الطيور على الطيران تسمح لهم بالتنقل في كل العالم إلى أماكن واسعة.  

مسافات الهجرة تتراوح بين بضع مئات الكيلومترات وعشرات آلاف الكيلومترات، حسب النوع. كلما يقترب فصل الشتاء ويصبح الغذاء محدودا، الطيور تهاجر وتنتقل إلى مناطق تكثر فيها الموارد الغذائية. الموارد الأساسية التي يحتاجون إليها هي الماء وأماكن يستطيعون أن يعمروا فيها أعشاشهم للوقاية من البرد.  

لا غرابة أنهم ليسوا بحاجة للوثائق للتنقل في كل العالم. ليست هناك حدود ولا لغات ولا قوانين أو ثقافات تفرقها. هي حرة أن تطير حيثما تشاء ومتى تشاء.  

من جهة أخرى نرى البشر يتعذبون بسبب الظروف التي خلقناها بنفسنا. وصلنا إلى القمر، صنعنا الأسلحة النووية والإشعاع الكهرومغنطيسي ونركب باستمرار هوائيات للاتصالات الخلوية في مدننا – مما يتسبب في خفض تعداد الطيور، تلك المخلوقات البريئة التي تعاني بسبب احتياجاتنا! لكن بالطبع لا يتوقع أحد السلام. نحن بحاجة للوثائق للسفر. نحن البشر جزأنا العالم وابتكرنا الحدود ووضعنا التصنيف على أنفسنا. كلمة بحد ذاتها تجعل من الإنسان شخصا غريبا، لاجئا، مهاجر. 

على أي حال، هذه المقالة مخصصة لليوم العالمي للطيور المهاجرة. ما زال لدينا الكثير نتعلمه من وجهة تلك الطيور الحقيقية وقدرتهم على التوجه بدقة وحتى من المناهج التي تطبقها للتحضير لتكل الرحلات البعيدة.  

[vc_single_image image=”11891″ img_size=”400*500″ add_caption=”yes” alignment=”center”]

پرندوں کی ہجرت ایک بہت دلچسپ موضوع ہے۔ جانوروں کا کوئی بھی دوسرا گروہ پرندوں جتنا حرکت پذیر نہیں ہے۔ عالمی سطح پر ر سال اربوں پرندوں کی ہجرت قدرت میں دیکھے جانے والے سب سے حیرت انگیز مظاہر میں سے ایک ہے۔ ان کی اڑان بھرنے کی اہلیت انہیں گھریلو حدود میں دنیا بھر میں حرکت کرنے کے قابل بناتی ہے۔ 

پرجاتیوں کے تحد، ہجرت کے فاصلوں کی حدود چند سو کلو میٹر سے لے کر ہزاروں کلومیٹر تک چلی جاتی ہے۔ جیسے جیسے سردی قریب آتی اور کھانے کی دستیابی میں کمی ہوتی ہے، پرندے ہجرت کرتے ہیں، کم وسائل والے علاقوں سے حرکت کر کے اعلی وسائل والے علاقوں میں جاتے ہیں۔ دو بنیادی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہیں خوراک اور سردی سے بچنے کے لیے گھوںسلوں کی جگہ۔

ہے نا حیرت انگیز کہ انہیں دنیا بھر میں سفر کرنے کے کیلئے کسی بھی دستاویز کی ضرورت نہیں ہوتی؟ انہیں الگ کرنے کے لیے سرحدیں، زبانیں، قواعد یا ثقافتیں نہیں ہے۔ وہ جہاں چاہیں اور جب چاہیں اڑنے کے لئے آزاد ہیں! 

دوسری طرف، انسان ان حالات سے دوچار ہے جو ہم نے خود اپنے لئے بنائے ہیں۔  ہم چاند پر پہنچ گئے، ہم نے ایٹمی ہتھیار اور الیکٹرو مقناطیسی تابکاری بنائی اور شہروں میں موبائل فون ٹاوروں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں – بظاہر پرندوں کی آبادی کو کم کر رہے ہیں، بے گناہ مخلوق ہماری ضرورتوں کا شکار ہے!  لیکن پھر بھی ، کوئی بھی امن کی توقع نہیں کرتا۔ ہمیں انسانوں کو سفر کے لئے دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم انسانوں نے دنیا کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے، سرحدیں بنا دیں ہیں اور اپنے آپ پر لیبل لگا دیا ہے۔ صرف ایک ہی لفظ خود بخود انسان کو غیر ملکی، مہاجر، تارکین وطن بنا دیتا ہے۔  

بہرحال، یہ مضمون ہجرت کرنے والے پرندوں کے عالمی دن کے لئے وقف ہے۔  ابھی بھی بہت کچھ سیکھنے کے لیے باقی ہے کہ یہ پرندے کہاں سے جاتے ہیں اور کس طرح جاتے ہیں، عمدہ سفروں کی تیاری کے لیے کونسے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔

[vc_single_image image=”11891″ img_size=”400*500″ add_caption=”yes” alignment=”center”]