Skip to main content

آمر اور خود غرضوں کو بھول جائو
اور ان جیسے ہزاروں
آتے ہیں اور سب کچھ جلا کر چلے جاتے ہیں
وہ قلم توڑتے ہیں
شاعر اور ان کے کاموں کو جلا دیتے ہیں
وہ انہیں پھانسیاں دیتے ہیں اور قید کر دیتے ہیں
انہوں نے لورکا(سپین کے شاعر) کو مار دیا
موسیقی کے آلات کو توڑ دیتے ہیں
لیکن ہمیں ضرور لکھنا اور گانا چاہیے
محبت، آزادی، انصاف
اور مساوات
امن کی دنیا بغیر بموں
میزائلوں اور قید خانوں کے
آمر دنیا کو دکھاتے ہیں
کہ مستقبل میں کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی والدین ہیں
والدین ناکامی سے اپنے بچوں کا
جنگ سے واپسی کا انتظار کرتے ہیں
میں تمام مردوں کی اجتماعی قبروں کی قسم اٹھاتا ہوں
میں ہولوکاسٹ کی بچی ہوئی راکھ کی قسم کھاتا ہوں
ان تمام عورتوں کی جنہوں نے ناانصافی کے خلاف ٹکر لی
مزدوروں کے تھکے ہوئے ہاتھوں کی
مقدس باپ دادا پر جو شرمندہ تھے
اپنے بچوں کو بتانے پر کہ وہ ایک دوست اور بچوں کے کھیل سے
لطف اندوز نہیں ہو سکتے
بچے محروم ہیں وہ کام کرتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں
میں قسم کھاتا ہوں تمام جلی ہوئی لائبریریز کی
نا انصافی کی تمام کوٹھریوں کی 
قسم کھاتا ہوں نوع انساں کی نوع انساں پر تشدد کی
اور ان آدمیوں کی
زمین پر آخری درخت تک کی 
پیارٗ، انصافٗ، آزادی، مساوات
شائد ایک دن شاعری اور موسیقی 
سادگی کی جگہ لے گی
جب بچے صرف کھولونوں سے کھیلیں گے
وہ ایک امید کا دن ہے
کل کی دنیا کی امید

 

سعید کی نظم ایلینیکو میں موجود دوسرے بین الثقافتی سینیئر ہائی سکول کے میگزین میں عنوان “سرحدوں کے بغیر “کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔

ہمارا نوجوان شاعر عظیم ایرانی شاعر یغما گلرویی سے متاثر ہوا ہے۔